بنگلورو،2/؍نومبر(ایس او نیوز)ریاستی وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج بی جے پی پر الزام لگایا کہ ریاستی وزیر ونئے کلکرنی کے امیج کو بدنام کرنے بی جے پی ان پر دھارواڑ میں پنچایت رکن کے قتل کا جھوٹا الزام لگارہی ہے۔ ونئے کلکرنی نے لنگایت طبقہ کی مذہبی تحریک میں سرگرم حصہ لیا تھا اس لئے انہیں بدنام کرنے کی بی جے پی کوشش کررہی ہے۔ ونئے کلکرنی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی نے کل ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے تھے اس کے ایک دن بعد وزیراعلیٰ سدارامیا نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے کہا جارہا ہے کہ لنگایت طبقہ جس کو شمالی کرناٹک میں ایک اہم پوزیشن حاصل ہے اس طبقہ کے لئے علاحدہ مذہب کا مقام حاصل کرنے کی تحریک میں ونئے کلکرنی پیش پیش تھے۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے گدگ ضلع میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ونئے کلکرنی کو بدنام کرنے بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا اور ان کی پارٹی کی یہ ایک سازش ہے جب کہ کلکرنی کے خلاف قتل کا کوئی الزام ہی نہیں ہے۔ بلگاوی میں حال ہی میں منعقدہ اسمبلی سیشن کے دوران بھی بی جے پی نے ونئے کلکرنی اور کے جے جارج کے استعفیٰ کا پرزور مطالبہ کیا تھا اس معاملہ کو لے کر اسمبلی اجلاس میں حکمران پارٹی اور اپوزیشن بی جے پی اراکین کے درمیان کئی مرتبہ لفظی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ حالانکہ کلکرنی نے ان پر بی جے پی کی طرف سے لگائے جارہے الزامات سے انکارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پنچایت رکن یوگیش گوڈا کے قتل میں کہیں بھی ان کا ہاتھ نہیں۔